امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کو ابراہیم معاہدے کی توسیع سے جوڑ دیا ہے، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تاہم پاکستان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل نے جنسی تشدد کی رپورٹ پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے تمام روابط ختم کر دیے
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی بنیادی نظریاتی اصولوں سے انحراف نہیں کر سکتا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کی شناخت کا مسئلہ برسوں سے ایک مستقل اصول رہا ہے۔ 1947 سے ہی پاکستانی پاسپورٹ پر درج ہے کہ یہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے درست ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں عوامی جذبات، مذہبی جماعتوں کا اثر، میڈیا اور سیاسی منظرنامہ عرب ممالک سے مختلف ہے۔ یہاں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی لاگت بہت زیادہ ہو گی۔


