امریکی جریدے فارن افیئرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے اس دور کے خاتمے کی نشاندہی کر دی ہے جب امریکا اپنی فوجی برتری کے بل بوتے پر تیزی سے حملے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پیپ کی رپورٹ کے مطابق 1991 کی جنگ نے امریکا کی عسکری برتری کا تاثر قائم کیا تھا مگر موجودہ تنازع نے امریکی طاقت کی حدود کو نمایاں کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، شہداء کی تعداد 73 ہزار 311 تک پہنچ گئی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم لاگت والے ڈرونز اور درست نشانہ لگانے والے میزائلوں نے جنگ کی نوعیت بدل دی ہے۔ یہ ہتھیار اب صرف بڑی طاقتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ دیگر ممالک بھی ان کے ذریعے جنگ کو طویل کر سکتے ہیں اور مؤثر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایران کو امریکا سے براہ راست جنگ کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنی میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادیوں اور غیر روایتی حکمت عملی کے ذریعے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز کا بحران عالمی نظام میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔


