مواد پر جائیں

پاکستان کا امریکہ اور ایران پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر زور

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران پر زور دے رہا ہے کہ وہ اسلام آباد کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے سے متعلق مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔ انہوں نے ابوظہبی سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامے نیشنل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے اگرچہ دونوں جانب سے فی الحال معمولی آمادگی موجود ہے، تاہم پاکستان اس حوالے سے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان کے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ اعلیٰ سطح پر کھلے اور فعال رابطے موجود ہیں۔ موجودہ صورتحال کے حل اور ایک جامع و حتمی معاہدے تک پہنچنے کا بہترین راستہ مذاکرات کی میز پر واپسی ہے اور اس مقصد کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس یادداشت میں تمام حل طلب امور کا احاطہ کیا گیا ہے اس لیے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی طرف واپس آنا چاہیے۔

مزید پڑھیں : یمنی فوج کا جزیرہ میون پر قبضہ، آبنائے باب المندب کا مکمل کنٹرول

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان شدید کشیدگی کے دوران اپریل میں جنگ بندی کروانے، دونوں فریقوں کو یکجا کرنے اور انہیں مفاہمتی یادداشت کی جانب لانے میں کامیاب ہوا تھا، تو اب دوبارہ انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی یقیناً کامیاب ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 12 روزہ جنگ اور رمضان کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے ایسے وقت میں ہوئے تھے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری تھی، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ امریکہ دراصل بامعنی گفتگو کا خواہاں نہیں ہے۔

About The Author