مواد پر جائیں

یمنی ذرائع کا انتباہ: سعودی عرب براہ راست جنگ میں آیا تو صنعاء کے پاس متعدد اختیارات ہیں

ایک یمنی ذریعے نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج کشیدگی میں اضافے کا متناسب جواب دیں گی اور اگر سعودی عرب نے وسیع جنگ میں براہ راست شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو صنعاء کے پاس متعدد اختیارات موجود ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق، یمنی فوجی ذریعے نے المیادین ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یمنی مسلح افواج کے حملوں کا بنیادی ہدف سعودی عرب کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں اور ان کے کمانڈروں کے اجتماع کے مراکز ہیں۔ ان کے مطابق ان اہداف کا تعین درست معلومات اور آپریشنل اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

ذریعے نے مزید کہا کہ سعودی عرب سے وابستہ کمانڈروں کو نشانہ بنانے والی یمنی کارروائیوں کے نتیجے میں زمینی جنگ میں داخل ہونے کے لیے ان کی تیاریوں کا ایک بڑا حصہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : عالمی نظام کی تبدیلی: یورپ کا امریکہ سے سونا واپس منتقل کرنے کا بڑا اقدام

یمنی فوجی ذریعے نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب سے وابستہ تمام فوجی سرگرمیاں یمنی مسلح افواج کی نظر میں جائز ہدف تصور کی جاتی ہیں۔

انہوں نے ممکنہ طور پر کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے کہا کہ یمنی مسلح افواج کسی بھی اضافی کشیدگی کا متناسب جواب دیں گی۔ اگر سعودی عرب نے وسیع جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا تو صنعاء کے پاس متعدد راستے موجود ہیں۔

یمنی ذریعے نے مزید دعوی کیا کہ ملک کی مسلح افواج کے پاس مختلف نوعیت کی جنگوں اور لڑائیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں کا ایک مربوط نظام موجود ہے۔

About The Author