عالمی نظام کی تبدیلی: یورپ نے امریکہ سے سونا واپس منتقل کرنا شروع کر دیا، نیدرلینڈز اور فرانس کا بڑا اقدام۔ عالمی ماہرین اسے عالمی نظام کی تبدیلی، مغرب کی اجارہ داری کے خاتمے، ڈالر کے زوال اور اقتدار کی مشرق میں منتقلی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
امریکی جریدے "دی بل ورک” کی رپورٹ کے مطابق، کئی یورپی ممالک اپنے سونے کے ذخائر کو امریکہ سے واپس منتقل کر رہے ہیں۔ یہ رجحان واشنگٹن اور یورپی اتحادیوں کے درمیان اعتماد میں کمی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تناظر میں۔ نیدرلینڈز نے مارچ سے اگست 2026 کے دوران امریکہ اور کینیڈا میں موجود تقریباً 86 ٹن سونا لندن منتقل کیا۔ ڈچ مرکزی بینک کے مطابق، اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے ماحول میں بحران سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانا اور سونے کو زیادہ آسانی سے قابلِ تجارت بنانا ہے۔ اس منتقلی کے بعد نیدرلینڈز کے سونے کا تقریباً 32 فیصد لندن میں موجود ہے، جبکہ نیویارک اور اوٹاوا میں موجود حصے کم ہو کر تقریباً 18.5 فیصد فی مقام رہ گئے ہیں۔ نیدرلینڈز کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 612 ٹن سونے کے ذخائر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فرانس نے بھی نیویارک میں موجود تقریباً 15 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر کو یورپ منتقل کیا ہے۔ تاہم دیگر ذرائع کے مطابق فرانس کی منتقلی میں تکنیکی اور انتظامی عوامل بھی شامل تھے، اس لیے اسے صرف سیاسی ردِعمل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ جرمنی کے پاس اب بھی تقریباً 1,236 ٹن سونا امریکہ میں موجود ہے۔ جرمنی میں اپنے امریکی ذخائر واپس لانے کے مطالبات ضرور سامنے آئے ہیں، تاہم جرمن مرکزی بینک نے فی الحال نیویارک میں موجود سونے کو واپس لانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اسی طرح اٹلی کے حوالے سے بھی امریکی والٹس میں موجود سونے کی مستقبل میں منتقلی پر بحث جاری رہنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں : یمنی ذرائع کا انتباہ: سعودی عرب براہ راست جنگ میں آیا تو صنعاء کے پاس متعدد اختیارات ہیں
ماہرین کے مطابق مرکزی بینکوں کے لیے سونے کی محفوظ جگہ، فوری دستیابی، بحران کے وقت قابلِ استعمال ہونا اور جغرافیائی تنوع اہم عوامل ہیں۔ لندن دنیا کی سب سے بڑی جسمانی سونے کی تجارتی منڈیوں میں سے ایک ہے، اس لیے نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ لندن میں سونا رکھنے سے بحران کے دوران اسے زیادہ آسانی سے استعمال یا فروخت کیا جا سکتا ہے۔ "دی بل ورک” نے اس پیش رفت کو امریکہ اور یورپ کے درمیان بدلتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا ہے اور اسے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے پس منظر میں دیکھا ہے، خاص طور پر وہ پالیسیاں جنہوں نے یورپی اتحادیوں کو پریشان کیا ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا بھر کے مرکزی بینک جغرافیائی کشیدگی، پابندیوں، مالیاتی خطرات اور عالمی اقتصادی غیر یقینی کے باعث اپنے سونے کے ذخائر کی جگہ اور تقسیم پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔




