امریکی محکمہ خارجہ نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے کے تحت دہشت گردی کے خلاف کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔
وائس آف امریکہ کو موصول ہونے والی سرکاری ای میل کے مطابق محکمہ خارجہ نے بتایا کہ طالبان کی اس ناکامی کے باعث دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ اور خطے میں حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان میں آپریشن العزم جاری، فتنہ الہندوستان کے 13 دہشت گرد ہلاک
محکمہ خارجہ کے مطابق طالبان کی ناکامی نے تشدد کو مزید ہوا دی ہے جس سے خطے کے امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ رد عمل روس اور اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان میں داعش اور القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کی بڑھتی سرگرمیوں پر تشویش کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا کہ داعش خراسان افغانستان کو اپنا مرکز بنا کر وسطی ایشیا تک سرگرمیاں وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر پیوٹر ایلیچیف نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے تقریباً 23 ہزار جنگجو سرگرم ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 4 فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے دہشت گرد بھی بدستور سرگرم ہیں۔


