بھارت میں منعقد ہونے والے برکس اجلاس میں شریک ممالک کے عدالتی سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای نے کہا کہ دنیا کو آج پہلے سے کہیں زیادہ انصاف کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی انصاف انتخابی نہیں ہونا چاہیے، سیاسی مقاصد کے لیے قانون کی حکمرانی پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور قوموں کے ساتھ طاقت کی بنیاد پر مختلف سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے برکس کو ابھرتے ہوئے عالمی نظام میں اہم اقتصادی و سیاسی اتحاد قرار دیتے ہوئے باہمی احترام، ریاستی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے منشور کی پابندی کو اس کی بنیادی اقدار بتایا۔
محسنی اژہ ای نے کہا کہ جدید سائنسی اور تکنیکی ترقی کے باوجود دنیا میں قومی خودمختاری کی خلاف ورزیاں، انسانی حقوق کی پامالی، غیر قانونی یک طرفہ پابندیاں اور آزاد ممالک پر بالادستانہ دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایران کے حالیہ تجربات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے بھاری قیمت ادا کی اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جنگوں اور حملوں کا سامنا کیا۔
مزید پڑھیں: ایرانی فوج کے کمانڈر کا بیان: جدید جنگ میں ہم دشمن پر حاوی ہیں
انہوں نے انسانی جانوں کے نقصان، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، رہائشی علاقوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کو جنگی جرائم قرار دیا اور بین الاقوامی اداروں کی بے عملی پر تنقید کی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ایرانی چیف جسٹس نے برکس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کی باضابطہ مذمت کریں اور بین الاقوامی جرائم کے ذمہ داروں کے خلاف مؤثر قانونی اقدامات کی حمایت کریں۔
برکس اجلاس اور عالمی انصاف
ماخذ: ارنا




