اے ایف پی نے ایک مقامی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمنی فوج نے جزیرہ میون کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے آبنائے باب المندب کے گرد تزویراتی صورتِ حال میں اہم تبدیلی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جزیرہ میون باب المندب کے داخلی راستے پر واقع ایک انتہائی اہم مقام ہے، جس کی وجہ سے اس کا کنٹرول خطے کی بحری صورتحال اور عالمی تجارت کے تناظر میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں : ڈینس راس کا اعتراف: معاشی و فوجی دباؤ ایران کو نہیں روک سکتا
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمنی فوج اور جنگجو پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب میں واقع ساحلی شہر ذوباب تک کامیابی سے پہنچ گئے ہیں۔ ادھر المیادین کے رپورٹر نے اطلاع دی ہے کہ المخا شہر اب یمنی فوج کے مکمل کنٹرول میں ہے، جہاں حالات پوری طرح معمول پر آگئے ہیں اور تمام سرکاری اداروں کی سرگرمیاں بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔
ماخذ اور وضاحت
جزیرہ میون سے متعلق اطلاع اے ایف پی کے مقامی عہدیدار، جبکہ ذوباب اور المخا سے متعلق تفصیلات رائٹرز اور المیادین کی رپورٹس سے منسوب ہیں۔ جزیرے پر قبضہ پوری آبنائے پر بلا شرکتِ غیرے کنٹرول کے برابر نہیں؛ بحری صورتِ حال بدل سکتی ہے۔
یہ خبر کیوں اہم ہے؟
باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اس لیے ساحلی یا جزیراتی کنٹرول میں تبدیلی جہاز رانی کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔




