دی وائس آف امہ: جس روز پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی لاہور کے منبر سے یمن کی انصار اللہ کو "دہشت گرد ملیشیا” قرار دے رہے تھے، اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں یہ اعتراف کر رہے تھے کہ "اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار رہا ہے۔” یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے والوں کی فہرست میں اسرائیل کا نام کسی یمنی ترجمان نے نہیں، خود امریکی صدر نے لیا ہے۔
جمعہ 16 اکتوبر کو بحریہ ٹاؤن جامع مسجد لاہور میں خطبۂ جمعہ کے دوران، ان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر جاری عربی خلاصے کے مطابق، حافظ اشرفی نے کہا: "ہم تمہیں جانتے ہیں، تمہاری پشت پناہی کرنے والوں کو بھی، اور یہ بھی کہ تم کیا چاہتے ہو… ہم تمہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔” یہ خطبہ اسی "یومِ مذمت” کا حصہ تھا جس کی اپیل پاکستان علماء کونسل نے کی تھی، اور جسے پاکستان، کویت اور سعودی عرب کے منبروں سے ایک ہی دن ایک ہی بیانیے کے ساتھ منایا گیا۔ طاہر اشرفی یمن کے بارے میں اپنی پوسٹس میں انصار اللہ پر مکہ و مدینہ کو نشانہ بنانے کا الزام دہراتے رہے۔
مکہ و مدینہ کا الزام: صنعاء کیا کہتا ہے؟
یمنی وزارتِ خارجہ نے اس الزام کو "بڑا بہتان” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی غیر جانبدار فریق کے سامنے اس کی تردید کے لیے تیار ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود کے غیر محفوظ ہونے کا جو انتباہ دیا، اس میں مکہ اور مدینہ کی فضائی حدود کو واضح طور پر مستثنیٰ رکھا گیا۔ سریع کے مطابق یمن کی کارروائیاں دفاعی ہیں اور سعودی جارحیت و محاصرہ ختم ہونے تک جاری رہیں گی۔ حرمین کے تقدس کا سوال اٹھانے والے منبر سے یہ دونوں حقائق بیان نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ: یمن کے خلاف جنگ میں اسرائیل سعودی عرب کی مدد کر رہا ہے
اسرائیل، امریکہ اور سعودی جنگ
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ریاض کو انصار اللہ کے خلاف اسرائیلی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہیے، تو انہوں نے کہا: "ہاں، بالکل۔” ہآرٹز کے حوالے سے اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی ثالثی سے یمن کی فوجی مہم میں شمولیت کی اجازت مانگی تھی، جو محمد بن سلمان نے عوامی ردعمل کے خوف سے مسترد کی، جبکہ اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذریعے سعودی عرب کو انٹیلی جنس معاونت دے رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ 17 ستمبر کو سعودی عرب کو 24.3 ارب ڈالر کے 48 ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت منظور کر چکا ہے، اور سریع کے مطابق یمن پر بمباری میں امریکی ایف-15 اور یورپی ٹائیفون طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔ ہفتے کی سہ پہر تک حافظ اشرفی کے اکاؤنٹ پر ٹرمپ کے بیان پر ایک لفظ بھی نظر نہیں آیا۔
یمن کے شہداء جن کا ذکر منبر پر نہیں ہوا
صنعاء کی وزارتِ صحت کے مطابق 3 ستمبر سے 15 اکتوبر تک سعودی حملوں میں 114 یمنی شہید اور 305 زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ صبا کے مطابق ذمار میں سعودی کلسٹر بموں سے 3 بچے شہید اور 17 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
حافظ اشرفی اسرائیل کو "امت کا دشمن” کہتے ہیں، مگر اسی سانس میں انصار اللہ کو اس کے برابر کھڑا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہیں: اگر اسرائیل دشمن ہے تو اس کی سعودی عرب کو "مدد” پر خاموشی کیوں؟ ذمار کے شہید بچوں کے لیے یومِ مذمت کب ہوگا؟ اور کیا منبر کا کام کسی حکومت کے بیانیے کی تشہیر ہے یا مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا؟




