دی وائس آف امہ: یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ سعودی فضائی حدود اور ہوائی اڈے محفوظ نہیں ہیں، البتہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مقدس فضائی حدود اس انتباہ سے مستثنیٰ ہیں۔ اس انتباہ کے اگلے ہی روز برطانیہ نے اپنے شہریوں کو پورے سعودی عرب کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کر دی۔
سبا کے مطابق جنرل سریع نے جمعرات کو سعودی اتحاد کے ترجمان کی پریس کانفرنس کے جواب میں جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب گزشتہ بارہ برسوں میں یمن پر 2 لاکھ 74 ہزار 302 سے زائد فضائی حملے کر چکا ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک 2,350 سے زائد فضائی اور میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بیان کا آغاز قرآن کریم کی آیت "فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ” سے کیا اور کہا: "جو ہمارے ملک پر جارحیت کرے، وہ ہم سے سلامی کی توقع نہ رکھے۔”
سعودی فضائی حدود: "ہماری کارروائیاں دفاعی ہیں”
جنرل سریع نے کہا کہ یمنی مسلح افواج ماضی میں بھی تمام فضائی کمپنیوں کو بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ سعودی فضائی حدود اور ہوائی اڈے غیر محفوظ ہیں، اور اب اسی انتباہ کو دہرایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یمنی افواج اللہ کے فضل سے جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں، ان کی کارروائیاں دفاعی ہیں اور جب تک سعودی عرب جارحیت اور محاصرہ ختم نہیں کرتا، یمن کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: عدن میں معسکر بدر پر یمنی میزائل حملہ، سعودی افواج کا کمانڈ ہیڈکوارٹر نشانہ
برطانوی حکومت: مزید حملے "بہت زیادہ متوقع”
برطانوی دفترِ خارجہ (ایف سی ڈی او) نے جمعہ 16 اکتوبر کو اپنی ٹریول ایڈوائزری اپ ڈیٹ کرتے ہوئے پورے سعودی عرب کے غیر ضروری سفر سے منع کر دیا، جبکہ یمن کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے اندر ہر قسم کے سفر سے گریز کی ہدایت برقرار رکھی۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق اس سے پہلے یہ انتباہ صرف مخصوص علاقوں اور شہروں تک محدود تھا۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ابہا، جازان، نجران، ریاض، جدہ، دمام اور ینبع سمیت پورے سعودی عرب میں ہوائی اڈوں، فوجی و دفاعی عمارتوں، فوجی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرہ لاحق ہے، اور "ہوائی اڈوں پر مزید حملے، پروازوں میں خلل اور منسوخیاں بہت زیادہ متوقع ہیں۔” برطانوی شہریوں کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے محفوظ ہونے تک اس سے دور رہنے اور سعودی عرب سے نکلنے کے لیے زمینی راستے سے کسی پڑوسی ملک جا کر وہاں سے پرواز لینے پر غور کا مشورہ دیا گیا ہے۔
چائنا ڈیلی نے فضائی ڈیٹا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جمعہ کو سعودی عرب کا فضائی نیٹ ورک بدستور شدید متاثر رہا اور تقریباً نصف طے شدہ پروازیں منسوخ ہوئیں یا روانہ نہ ہو سکیں۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق رواں ماہ ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ کو 20 مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ صنعاء کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یمنی قوم نے "محاصرے کا جواب محاصرہ اور کشیدگی کا جواب کشیدگی” کی مساوات اس لیے اپنائی ہے تاکہ سعودی عرب کو جارحیت ختم کرنے اور یمن کا محاصرہ اٹھانے پر آمادہ کیا جا سکے۔




