مواد پر جائیں

ایران اب پہلے جیسا نہیں: جنگ کے میدان سے آگے کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی

تحریر: علی اظہار

تاریخ: 7 ستمبر 2026

ایران اب پہلے جیسا نہیں: جنگ کے میدان سے آگے کی حکمتِ عملی

مغربی ایشیا میں طاقت کا توازن اب صرف میزائلوں، جنگی طیاروں اور فوجی اڈوں سے طے نہیں ہوتا۔ اصل مقابلہ اس بات پر بھی ہے کہ کون سا فریق طویل عرصے تک دباؤ برداشت کر سکتا ہے، مخالف کے لیے زیادہ لاگت پیدا کر سکتا ہے اور سفارتی میز پر مضبوط پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔

ایران کے حالیہ بیانات اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

محسن رضائی کے مطابق ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کی ہے اور مستقبل کی جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف ہوگی۔ اس بیان کو محض ایک عسکری انتباہ سمجھنا شاید اس کی اصل اہمیت کو محدود کر دے۔ اس کے پیچھے ایک وسیع تر تصور موجود ہے: جنگ اب صرف محاذ پر نہیں، بلکہ معیشت، تجارت، توانائی اور سفارت کاری کے میدان میں بھی لڑی جائے گی۔

آبنائے ہرمز؛ بحری راستہ یا اسٹریٹجک دباؤ؟

آبنائے ہرمز ایران کے لیے محض ایک جغرافیائی مقام نہیں۔ یہ عالمی توانائی اور سمندری تجارت کے نظام کا ایک انتہائی حساس نقطۂ اتصال ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے باہر ممکنہ "ممنوعہ زون” کا تصور اسی جغرافیائی اہمیت کو دباؤ کے ایک نئے ذریعے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد صرف بحری نقل و حرکت کو محدود کرنا نہیں، بلکہ کسی بھی ممکنہ ناکہ بندی یا دباؤ کی لاگت بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔

یہاں ایران کا بنیادی پیغام واضح دکھائی دیتا ہے:

اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات صرف ایرانی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔

یہ حکمت عملی کی اس منطق سے مطابقت رکھتی ہے جس میں مخالف کو جنگ شروع کرنے سے پہلے اس کی ممکنہ قیمت کا اندازہ کرنا پڑتا ہے۔

مذاکرات، مگر اس بار ضمانت کے ساتھ

ایران کی سفارتی پالیسی میں بھی ایک نمایاں تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔

تہران اب صرف مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے بجائے اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مذاکرات سے پہلے اعتماد سازی کے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ غزہ اور لبنان میں جنگ بندی اور ایرانی اثاثوں کی رہائی جیسے مطالبات اسی وسیع تر مؤقف کا حصہ ہیں۔

یہ دراصل سفارت کاری کی ایک مختلف تعریف ہے:

پہلے اعتماد، پھر مذاکرات۔

ایران کے لیے ماضی کے تجربات نے یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ اگر معاہدوں کی قابلِ اعتماد ضمانت موجود نہ ہو تو محض سیاسی وعدوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

اسی لیے تہران اب مذاکرات کو طاقت، ضمانت اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔

معاشی محاذ؛ پابندیوں کا جواب

ایران کی "مزاحمتی معیشت” بھی اسی حکمتِ عملی کی ایک اہم بنیاد ہے۔

طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایران نے یہ تصور فروغ دیا ہے کہ بیرونی اقتصادی دباؤ کو قومی کمزوری کے بجائے خود انحصاری کی طرف لے جانے والی قوت میں تبدیل کیا جائے۔

لیکن اس پالیسی کا نیا پہلو یہ ہے کہ تہران صرف دباؤ برداشت کرنے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ مسلسل اقتصادی دباؤ کی صورت میں امریکی مفادات کو خطے میں جوابی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یعنی:

پابندیوں کا جواب صرف انہیں برداشت کرنا نہیں، بلکہ مخالف کے لیے بھی اس کی قیمت بڑھانا ہے۔

غزہ، لبنان اور ہرمز؛ الگ محاذ نہیں

ایران کی موجودہ سوچ کو سمجھنے کے لیے ایک نکتہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے: تہران ان تمام محاذوں کو ایک دوسرے سے منسلک سمجھتا ہے۔

غزہ میں جنگ، لبنان کی سلامتی، خلیج کی صورتِ حال، آبنائے ہرمز، توانائی کی تجارت اور عالمی معیشت ایران کے نزدیک یہ الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی علاقائی سلامتی کے نظام کی باہم جڑی ہوئی کڑیاں ہیں۔

اسی لیے ایک محاذ پر پیدا ہونے والا دباؤ دوسرے محاذ پر ردِعمل پیدا کر سکتا ہے۔

یہی وہ تصور ہے جسے رضائی نے خطے کی "ایک دوسرے سے جڑی ہوئی زنجیر” قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں : باطل کو یا دیمک چاٹ جاتی ہے یا زنگ کھا جاتا ہے: امریکی بحری بیڑے کا انجام

اصل پیغام کیا ہے؟

ایران شاید دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اسے صرف اس کی فوجی طاقت سے نہ ناپا جائے۔

اس کی طاقت کا تصور اب زیادہ وسیع ہے:

فوجی طاقت + جغرافیائی اہمیت + اقتصادی مزاحمت + علاقائی اثر و رسوخ + سفارتی دباؤ

یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسا اسٹریٹجک ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں جس میں جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کے نتائج کو محدود رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

اسی لیے ایران کا نیا پیغام محض یہ نہیں کہ:

"ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔”

اس سے زیادہ اہم پیغام شاید یہ ہے:

"اگر جنگ ہوئی تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے۔”

مغربی ایشیا میں آنے والے دنوں کی اصل آزمائش یہی ہوگی کہ آیا یہ نئی ایرانی حکمتِ عملی عملی طاقت میں تبدیل ہوتی ہے یا محض دباؤ بڑھانے کی سفارتی زبان ثابت ہوتی ہے۔

لیکن ایک بات واضح ہے:

ایران اب اپنے مخالفین سے صرف میدانِ جنگ میں مقابلے کی تیاری نہیں کر رہا؛ وہ جنگ کے پورے نظام کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

About The Author