آبنائے ہرمز اب صرف تیل اور تجارت کی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن اور نئے علاقائی نظام کی علامت بنتی جا رہی ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی چالیس روزہ جنگ میں ناکامی کے بعد مغربی ایشیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ حالیہ جنگ نے خطے کی پرانی سیاسی اور عسکری مساوات کو تبدیل کر دیا ہے، جس کے بعد جنگ سے پہلے والی صورتحال میں واپسی تقریباً ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : “مذاکرات نہیں، دفاعی قوت فیصلہ کن ہے”، ڈاکٹر قالیباف
خلیج فارس کی ریاستیں برسوں سے امریکی فوجی موجودگی اور واشنگٹن کی سکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتی رہیں، مگر حالیہ جنگ نے واضح کر دیا کہ بحران کے وقت یہ بیرونی سکیورٹی نظام عملی طور پر زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
اب علاقائی ممالک مقامی صلاحیتوں، باہمی تعاون اور زمینی حقائق پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ایران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا انتظام دانشمندانہ انداز میں کرے گا۔
امریکہ کی جانب سے عمان کو دھمکیاں دینا اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنے کم ہوتے اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہے۔


