غزہ کے مظلوم فلسطینی تیسری بار عید الاضحیٰ محاصرے، بھوک اور بے گھری میں گزار رہے ہیں۔
غاصب اسرائیل کی وحشیانہ جنگ اور ناکہ بندی نے حج، قربانی اور آزادیِ عبادت جیسے مقدس شعائر ادا کرنے کی سہولت بھی چھین لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جنوبی لبنان نے آزادی کی جدوجہد کی نئی تاریخ رقم کی
اس سے قبل غزہ سے ہر سال تین ہزار سے زائد فلسطینی حج کے لیے سعودی عرب جاتے تھے، مگر اس سال بند گزرگاہوں اور اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے زیادہ تر لوگ حج ادا نہیں کر سکیں گے۔
زراعت کی وزارت کے مطابق جانوروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے عید الاضحیٰ کی قربانی بھی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ بچوں کے لیے عید الاضحیٰ اب نئے کپڑوں، تحائف اور خاندانی خوشیوں کے بجائے پانی اور خوراک کی قطاروں اور شہید ہونے والے عزیزوں کی یاد میں گزر رہی ہے۔


