امریکی جریدے Current Affairs نے ایک تنقیدی رپورٹ میں کہا ہے کہ طاقتور ممالک کے رہنماؤں کو حاصل عملی استثنیٰ عالمی انصاف کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جارج بش اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اگر کارروائی ہوتی تو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی بعض پالیسیوں اور حالیہ علاقائی تنازعات کی شدت کم ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : بیروت پر اسرائیلی حملوں کی دھمکی، داحیہ کے رہائشی گھروں سے نکلنے لگے
ماہرین کے مطابق جب طاقتور ریاستیں جنگی جرائم یا جارحیت کے مرتکب ہوں اور انہیں کوئی احتساب نہ ہو تو یہ دوہرا معیار بین الاقوامی قانون کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے کمزور ممالک اور عوام متاثر ہوتے ہیں جبکہ فیصلہ ساز محفوظ رہتے ہیں۔
رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ حقیقی عالمی انصاف تب ہی ممکن ہے جب قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہو، چاہے وہ کوئی بھی طاقتور ملک یا رہنما کیوں نہ ہو۔


