ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا ہے کہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہاز گزروانے کیلئے ایران سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق مشرقی ایشیائی ممالک (خاص طور پر چین، جاپان اور پاکستان) کے جہازوں کے گزرنے کے بعد اب یورپی ممالک بھی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم آبی راستے پر مکمل کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اب ایران نے ایک پیشہ ورانہ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم تیار کر لیا ہے جس کے تحت دوست اور تعاون کرنے والے ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ یہ نظام جلد ہی مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ اس میں صرف تعاون کرنے والے فریقین کو فائدہ ملے گا اور خدمات کی فیس بھی وصول کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ذوالحجہ کا چاند کل نظر آنے کا واضح امکان، عید الاضحیٰ 27 مئی کو متوقع
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے “فریڈم پروجیکٹ” سے منسلک جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایران کی آبنائے ہرمز پر اسٹریٹجک کنٹرول اور عالمی توانائی کی سپلائی میں اس کے اہم کردار کو مزید واضح کر رہی ہے۔


