اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ نے 7 اکتوبر کے واقعات میں ملوث مبینہ فلسطینی اسیران کے لیے خصوصی قانون منظور کر لیا ہے۔
اس قانون کے تحت ان اسیران پر مقدمات چلائے جائیں گے جن پر قابض حکام سنگین جرائم کا الزام لگاتے ہیں اور انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اس قانون میں مستقبل میں ہونے والے کسی بھی تبادلے کے معاہدے میں ان کی رہائی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : رام اللہ کے مشرق میں بیت ایل بستی کی توسیع، نئی یہودی کالونی قائم
یہ بل سمحا روٹمین اور یولیا مالینوسکی نے پیش کیا تھا جسے 93 ارکان کی اکثریت سے منظور کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ قانون ان اسیران کو کبھی رہا نہ کرنے کی تصدیق کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو فلسطینی اسیران کے خلاف خطرناک اور غیر قانونی اقدام قرار دے رہی ہیں۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 9400 سے زائد فلسطینی اسیر ہیں جن میں 1283 غزہ کے اسیران غیر قانونی جنگجو قرار دیے گئے ہیں۔


