قابض اسرائیلی حکومت مغربی کنارے میں اپنے توسیعی منصوبوں کو تیز تر کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
رام اللہ کے شمال میں فلسطینیوں کی اراضی پر زبردستی قائم کی گئی بیت ایل بستی میں زمین کی نام نہاد تصفیہ کے طریقہ کار کو مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد وسیع پیمانے پر آباد کاری کے منصوبوں کا آغاز کرنا ہے جن میں پہلے مرحلے کے طور پر 1200 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور نئی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مسجد اقصیٰ میں رباط اور عوامی اجتماع کی اپیل، آباد کاروں کے حملوں کے خلاف
عبرانی چینل 14 کے مطابق یہ قدم برسوں کی قانونی اور انتظامی کارروائیوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
قابض حکومت نے ان اقدامات کو قانونی رکاوٹیں دور کرنے کا نام دیا ہے تاکہ اس بستی کی بے مثال توسیع کی جا سکے اور مستقبل میں اسے ایک توسیعی شہر میں تبدیل کیا جا سکے۔
آباد کاری کے وزیر بزلئیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ قابض حکومت زمین پر انقلاب لانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور بیت ایل میں اراضی کا تصفیہ ان کے نزدیک ایک قومی فریضہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں فوری طور پر 1200 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے تفصیلی نقشوں کا اجرا شامل ہے جبکہ بستی کی طرف جانے والی سڑک کو دو رویہ کیا جائے گا۔
اسی تناظر میں آباد کاروں نے آج پیر 11 مئی 2026 کو رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبے رمون کی اراضی پر جسر الخلہ کے علاقے میں ایک نئی بستی قائم کر لی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم البیدر نے رپورٹ دی ہے کہ آباد کاروں نے شہریوں کی زمینوں پر خیمے اور موبائل ہومز نصب کر کے اس نئی بستی کا قیام شروع کیا ہے۔
تنظیم نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ عرصے میں جسر الخلہ کا علاقہ فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے حملوں کے ایک مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ اور دنیا کے بیشتر ممالک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔