غزہ کی پٹی میں ہری بھری ترکاری اب روزمرہ کے دسترخوان کا حصہ نہیں رہی بلکہ ایک نایاب اور مہنگی جنس بن چکی ہے۔ مسلسل جاری نسل کشی کی جنگ نے نہ صرف گھروں کو خاکستر کیا بلکہ کھیتوں، گرین ہاؤسز اور آبپاشی کے نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس تباہی نے غزہ کو جو کبھی اپنی فصلوں میں خود کفیل تھا، پیداوار کی شدید قلت اور آسمان چھوتی مہنگائی کا شکار ویرانے میں بدل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور تاجکستان نے تجارت و توانائی میں تعاون وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا
شہری محمد ثابت بتاتے ہیں کہ جو سبزیاں کبھی مناسب داموں پر دستیاب تھیں، آج غریب خاندانوں کے لیے عیش کی چیز بن چکی ہیں۔ مصطفى درویش کے مطابق جنگ سے پہلے سبزیوں کی قیمت ایک سے چار شیکل فی کلو تھی مگر اب لوگ دانے کے حساب سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ کسان محمد الأسطل کہتے ہیں کہ گزرگاہوں کی بندش، بیجوں اور کھادوں پر پابندیاں اور زمینوں کے بلڈوز ہونے نے پیداوار کو تباہ کر دیا۔
عرفات العطار کے مطابق پانی کی قلت، مہنگا ایندھن اور سولر پینلز کی بربادی نے فصلوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ مقامی تخمینوں کے مطابق غزہ کا زرعی نظام 85 فیصد سے زیادہ برباد ہو چکا ہے، مجموعی خسارہ 3.49 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جن میں 1.90 بلین ڈالر براہ راست نقصان شامل ہے۔ کل 182,247 دونم میں سے 158,909 دونم زمینیں تباہ ہو چکی ہیں۔ بیت لاهيا کی مشہور اسٹرابیری بھی پیداوار سے غائب ہو گئی ہے۔


