مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں قابض اسرائیل نے اپنی سفاکیت کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
اسرائیلی حکام نے القطانین مارکیٹ اور باب الحدید کے درمیانی راستے پر ایک نیا آہنی دروازہ نصب کر دیا ہے۔ یہ راستہ مسجد اقصیٰ کی جانب جانے والی ایک اہم اور تاریخی شاہراہ ہے۔
ماہرین اس اقدام کو فلسطینیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور قبلہ اول کی اسلامی شناخت کو مٹانے کی صہیونی سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
امور القدس کے ماہر جمال عمرو نے کہا کہ قابض اسرائیل نے دروازوں اور رکاوٹوں کا ایک ایسا جال بچھا دیا ہے جو فلسطینیوں کی زندگی کو قید خانے میں بدل رہا ہے۔
بیت المقدسی کارکن ناصر قوس نے کہا کہ یہ نیا آہنی دروازہ فلسطینیوں کی روح پر وار ہے۔ یہ صرف رکاوٹ نہیں بلکہ مقدسیوں کو اپنے ہی شہر میں اجنبی بنانے کی کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کنیسٹ میں 7 اکتوبر کے اسیران کے لیے رہائی پر پابندی کا ظالمانہ قانون منظور
ماہر آبادیاتی تبدیلی خلیل التفکجی نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات دراصل القدس میں الخلیل جیسا ماڈل نافذ کرنے کی صہیونی پالیسی کا حصہ ہیں۔
فلسطینی عوام اس نئی رکاوٹ کو بھی 2017 کے الیکٹرانک دروازوں کی طرح استقامت سے ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔


