فلسطینی اسیران کمیشن اور کلب برائے اسیران نے قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں محبوس غزہ کے اسیران پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کے لرزہ خیز بیانات سامنے لائے ہیں۔
یہ انکشافات وکلاء کے حالیہ دوروں کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں جو رملہ اور نقب جیلوں میں غزہ کے اسیران سے ملے۔
رپورٹ کے مطابق رکیفت سیکشن میں رکھے گئے اسیران پر روزانہ شدید مار پیٹ کی جاتی ہے۔ زیر سماعت اسیران کی انگلیاں توڑنے کی منظم پالیسی اپنائی گئی ہے۔
اسیران نے بتایا کہ ہتھکڑیاں اتنی سخت کستی جاتی ہیں کہ خون منجمد ہو جاتا ہے اور شدید درد ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حماس: اسیران کی سزائے موت کے قانون کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے
کوٹھڑیوں میں چار اسیر ٹھونسے جاتے ہیں۔ تین لوہے کے بینچوں پر سوتے ہیں جبکہ چوتھا زمین پر سوتا ہے۔
سونے کے لیے دیے گئے گدے صبح چار بجے چھین لیے جاتے ہیں اور رات گیارہ بجے واپس ملتے ہیں۔
اسیران کو نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ صفائی کا سامان نہیں دیا جاتا۔ ٹوتھ پیسٹ دیا جاتا ہے لیکن برش نہیں دیا جاتا۔ چار اسیران کے لیے دو دن میں ایک رول ٹشو پیپر دیا جاتا ہے۔
اسیران نے گرفتاری کے وقت سے شروع ہونے والے تشدد کی تفصیلات بیان کیں۔ کئی اسیران کو الٹا لٹکایا گیا، شدید مارا پیٹا گیا اور نازک حصوں پر ضرب لگائی گئی۔
نقب جیل میں اسکیبیز (خارش) کا مرض وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ خوراک اتنی کم ہے کہ اسیر کئی کئی گھنٹے بھوکے رہتے ہیں۔
کمیشن اور کلب برائے اسیران نے ان بیانات کو نسل کشی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 9400 سے زائد فلسطینی اسیر ہیں۔


