اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے اسرائیلی کنیسٹ کے منظور کردہ نسل پرستانہ قانون کے سنگین نتائج کے بارے میں سخت خبردار کیا ہے۔
حماس نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ قانون فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کرتا ہے، خاص طور پر ان پر جو طوفان الاقصیٰ میں شرکت کا الزام لگایا جاتا ہے۔
تحریک نے زور دیا کہ دہشت گردی کی پالیسی اور فاشسٹ قانون سازی ہمارے عوام کے ارادوں کو توڑنے یا ان کی جدوجہد روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : ترک صدر کا خلیل الحیہ کے بیٹے کی شہادت پر اظہار تعزیت
حماس نے یہ قانون باطل اور غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ قانون اسرائیل کی انتقامی اور نسل پرستانہ سوچ کو بے نقاب کرتا ہے اور اسیران کے تبادلے کے راستے بند کرنے کی کوشش ہے۔
حماس نے اقوام متحدہ، عالمی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مجرمانہ قانون سازی کو روکیں اور قابض اسرائیل کے جرائم کا محاسبہ کریں۔
صہیونی کنیسٹ نے پیر کی شام اس قانون کو 93 ووٹوں سے منظور کیا تھا۔ اس سے پہلے مارچ 2026 میں بھی اسیران کو پھانسی دینے کا قانون پاس کیا گیا تھا۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 9400 سے زائد فلسطینی اسیر ہیں۔


