روس نے ایک بار پھر ایران کے افزودہ یورینیم کی منتقلی اور محفوظ رکھنے کی پیشکش کر دی ہے۔
ماسکو میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس نے 2015 میں بھی ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کیا تھا اور اب اس تجربے کو دوبارہ دہرانے کے لیے تیار ہے۔
پیوٹن نے کہا کہ اگر ایران تنازع جلد ختم نہ ہوا تو تمام فریقوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ تنازع کے تمام فریق یورینیم ایران سے باہر منتقل کرنے پر متفق ہیں لیکن امریکا نے اپنی پوزیشن سخت کر دی اور یورینیم کو امریکی سرزمین تک پہنچانے کا مطالبہ کیا جس پر ایران کا مؤقف بھی سخت ہو گیا۔
پیوٹن کا کہنا تھا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ تنازع ہے اور ہمیں ایک مشکل صورتحال میں ڈال رہا ہے کیونکہ ایران اور خلیج فارس کے ممالک سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ میری رائے میں کوئی بھی فریق اس تنازع کو جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ امید ہے ایران تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی عوام ایران کے خلاف جنگ کے مخالف، 61 فیصد نے ٹرمپ کی پالیسی مسترد کر دی
دریں اثنا ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے ساتھ جنگ ختم ہونے کا بھی اشارہ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع ایک نتیجے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پیوٹن نے مذاکرات میں سہولت کاری پر امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ صرف اور صرف روس اور یوکرین کے درمیان رہ گیا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ سلوواکیہ کے وزیر اعظم نے بتایا کہ زیلنسکی آمنے سامنے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ دیرپا امن معاہدہ طے پانے کے بعد ہی زیلنسکی سے مل سکتے ہیں۔


