بین الاقوامی تعلقات میں حکومت کے فیصلوں اور عوامی رائے کے درمیان اکثر ایک خلا ہوتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے موجودہ تناؤ کے دوران یہ خلا خاص طور پر نمایاں ہو رہا ہے۔
Ipsos کے ایک معتبر سروے کے مطابق 62 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی سے ناخوش ہیں جبکہ صرف 37 فیصد ان کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی پر 66 فیصد امریکیوں نے عدم منظوری کا اظہار کیا۔
سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 56 فیصد امریکی دوسرے ممالک میں فوجی مداخلت کے مخالف ہیں۔ ایران پر فوجی حملے کے بارے میں 61 فیصد نے اسے غلطی قرار دیا جبکہ صرف 36 فیصد نے حمایت کی۔
48 فیصد امریکی ایران کے ساتھ امن معاہدے کی حمایت کرتے ہیں چاہے اس میں امریکہ کو کچھ سیاسی یا معاشی قیمت ادا کرنی پڑے۔
52 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل امریکہ کی ایران پالیسی پر زیادہ اثر انداز ہو رہا ہے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام جنگ اور فوجی جارحیت سے تنگ آ چکے ہیں۔ طویل عرصے کی عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد اب امریکی معاشرہ فوجی مہم جوئی کے بجائے امن کی طرف زیادہ مائل نظر آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی آئل ٹینکروں پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے
یہ صورتحال ایران کے لیے مثبت ہے کیونکہ امریکی عوام کی جنگ مخالف سوچ سے واشنگٹن پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور فوجی کارروائی کی سیاسی قیمت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ اس سے ایران کی مضبوط اور ثابت قدم پوزیشن مزید واضح ہوتی ہے۔
سروے یہ بھی بتاتا ہے کہ امریکہ اب ایک ایسا ملک ہے جو فوجی طاقت تو رکھتا ہے لیکن اس کے استعمال پر عوامی سطح پر بڑا احتیاط اور تنقید موجود ہے۔


