ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ اہم شرائط پیش کی ہیں جو نہ صرف قانونی مطالبات ہیں بلکہ مغربی ایشیا میں ایک نئے سلامتی نظام کی بنیاد بھی ہیں۔
مہر نیوز کے مطابق، ایرانی حکام نے ان شرائط کو “منصفانہ امن” کا فریم ورک قرار دیا ہے۔ یہ شرائط درج ذیل ہیں:
1. تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ ایران کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے تمام محاذوں پر جارحیت فوری طور پر ختم کی جائے۔ تہران “مسلح امن” کے تصور کو مسترد کرتا ہے۔
2. تمام پابندیاں اٹھانا اقتصادی پابندیاں ایران کے خلاف ایک مستقل ہتھیار رہی ہیں۔ ان کا مکمل خاتمہ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔
3. منجمد اثاثوں کی فوری رہائی ایرانی عوام کے منجمد فنڈز اور اثاثے بلا شرط اور مکمل طور پر واپس کیے جائیں۔
4. جنگی نقصانات کا معاوضہ اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت سے جو شہری انفراسٹرکچر، ہسپتال، اسکول اور جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، اس کا معاوضہ ادا کیا جائے۔
5. آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا مطالبہ کرتا ہے۔ دوست ممالک کے جہاز ایرانی فوجی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کر کے محفوظ گزرگاہ حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ دشمنوں پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں اسرائیلی حملوں میں شدت، ایک رات میں 14 شہید، شہداء کی تعداد 850 ہو گئی
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ شرائط نہ صرف قومی وقار اور مفادات کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ خطے میں ایک نیا توازن قائم کرنے کی بنیاد بھی ہیں۔ اگر امریکہ حقیقی امن چاہتا ہے تو ان جائز مطالبات کو قبول کرنا ہوگا۔
یہ پانچ نکاتی روڈ میپ ایران کی سفارتی طاقت اور میدان میں حاصل کردہ فتح کی عکاسی کرتا ہے۔


