اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پر رات بھر شدید فضائی حملے کیے جن میں 14 افراد شہید ہو گئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 850 لبنانی شہید اور 2105 زخمی ہو چکے ہیں۔
حملوں میں شہری علاقوں، رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 8 لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے خبردار کیا کہ لبنان کا جنوب ویرانہ بن رہا ہے اور بیروت کے جنوبی مضافات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اس کا کوئی فوجی حل نہیں، صرف سفارتکاری سے ہی امن ممکن ہے۔”
اسپین کے وزیر خارجہ نے اسرائیلی جارحیت کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنانی عوام ایک ایسی جنگ کے شکار ہیں جس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے لبنان میں امن کے لیے فوری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر حملے شروع کر دیے، ایران جنگ میں نیا محاذ کھل گیا
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ لبنان ممکنہ مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔


