یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ) نے امریکہ اسرائیل کی ایران پر جنگ میں ایران کے ساتھ شامل ہو کر اسرائیل پر میزائل حملے شروع کر دیے ہیں۔
حوثیوں نے اتوار کو اسرائیل پر 24 گھنٹے کے اندر دوسرا حملہ کیا اور آئندہ دنوں میں مزید کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
حوثی ترجمان یحییٰ السریع نے ٹیلی ویژن پر بیان میں کہا کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک فلسطین، لبنان، عراق اور ایران پر جارحیت ختم نہیں ہو جاتی۔
حوثیوں نے بحر احمر میں “دشمنانہ کارروائیوں” کے لیے جہازوں کے استعمال کی اجازت نہ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔
اس اقدام سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل نے ایک میزائل کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ بیرشیبع اور اسرائیل کے جوہری مرکز کے قریب سائرن بجے۔
یہ بھی پڑھیں : فلسطینی قیدیوں کا دن: اسرائیلی جیلوں میں 9600 سے زائد قیدی، تشدد، بھوک اور تشدد کی شدید تشویش
حوثیوں نے گزشتہ سال اسرائیل حماس جنگ کے دوران بحر احمر میں 100 سے زائد بحری جہازوں پر حملے کیے تھے جن میں دو جہاز ڈوب گئے اور چار ملاح ہلاک ہوئے۔
امریکی فوج کے مطابق USS Gerald R Ford طیارہ بردار بحری جہاز کو کریٹ میں مرمت کے لیے بھیجا گیا ہے، جبکہ حوثیوں کی شمولیت سے خطے میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔


