ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے شہریوں سے توانائی کے استعمال میں بچت کی اپیل کی ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق یہ اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو ایک ماہ ہونے والا ہے۔
حکومتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس کے دوران صدر پزشکیان نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف ایک تکنیکی اقدام نہیں بلکہ توانائی کی کھپت کم کرنے اور ملک کی صلاحیتوں کے بہترین استعمال کے لیے ایک عوامی ثقافت قائم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھپت کے پیٹرن کی اصلاح کے لیے ملک بھر میں عوامی تحرک ضروری ہے۔
اس سے قبل ایرانی صدر نے گزشتہ ماہ 25 اپریل کو شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ بجلی کے استعمال میں کمی لائیں کیونکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف بجلی کی کھپت کو کنٹرول کرنا ہے۔ اگر ہم گھر میں 10 بلب جلانے کے بجائے صرف دو پر اکتفا کرتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟
یہ بھی پڑھیں : ایرانی آئل ٹینکروں پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے
واضح رہے کہ ایک طرف ایران نے آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی جہازوں کے گزرنے پر بڑی حد تک پابندی لگا رکھی ہے تو دوسری طرف امریکا نے 13 اپریل سے ایرانی بحری جہازوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔


