ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائیہ کے بریگیڈیئر جنرل موسوی نے ہفتے کی رات ایک پیغام جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے فضائیہ کے میزائل اور ڈرون علاقے میں امریکی ٹارگٹس اور جارح دشمن کے بحری جہازوں پر لاک ہو چکے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم فائر کرنے کا حکم منتظر ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیلی رژیم نے ایران پر بلا اشتعال جنگ شروع کی تھی۔ اس جنگ میں اسلامی انقلاب کے سابق رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی افسران شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : بحرین نے ایران کی حمایت پر 69 افراد کی شہریت ختم کر دی
ایرانی مسلح افواج نے کئی ہفتوں تک میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا۔ مقبوضہ علاقوں اور خلیج فارس میں امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 40 دنوں میں 100 لہروں میں جوابی حملے کیے گئے جن سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔
8 اپریل کو پاکستانی ثالثی سے دو ہفتوں کی جنگ بندی طے ہوئی جس کے بعد اسلام آباد میں بات چیت شروع ہوئی۔ ان بات چیت کے دوران ایران نے دس نکاتی تجویز پیش کی جس میں امریکی فوج کی واپسی اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کی بات چیت میں واپسی کا انحصار امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھنا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔


