ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور صہیونی رجیم مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کریں تو ایران دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں اور عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امن کے لیے مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا ہے مگر دشمن پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران۔امریکا مفاہمتی یادداشت کی 14 شقیں قومی مفادات کے تحفظ کی ضامن ہیں، بروجردی
چیف جسٹس نے زور دیا کہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے دوران اگر دشمن اپنے وعدوں سے پھر گیا تو ایران جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہوگا۔ انہوں نے ایرانی نمائندوں کو قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت کی۔


