امریکہ کا اصل مسئلہ ایران کی کسی مخصوص پالیسی سے نہیں بلکہ مغربی ایشیا میں ایک آزاد، خودمختار اور طاقتور ایران کے وجود سے ہے جو علاقائی اور عالمی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران اور امریکہ کے تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ پابندیاں، سیاسی دباؤ اور علاقائی تنازعات اس کشیدگی کی نمایاں شکل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ محاذ آرائی محض وقتی اختلافات نہیں بلکہ گہرے جغرافیائی، تزویراتی اور اقتصادی عوامل پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا ایران سے منسلک آئل ٹینکر ضبط کرنے کا دعویٰ
ایران کی جغرافیائی اہمیت، وسائل، نوجوان آبادی اور آزاد خارجہ پالیسی اسے ایک اہم علاقائی طاقت بناتی ہے۔ امریکہ کے لیے ایک ایسا ملک جو بڑی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرے اور علاقائی معادلات پر اثر انداز ہو سکے، ناقابل قبول ہے۔
ایرانی ماڈل کی کامیابی یہ پیغام دیتی ہے کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بغیر بھی ترقی اور مزاحمت ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی ہر پیش رفت کے ساتھ دباؤ میں اضافہ ہوتا گیا۔
امریکہ خطے میں اسرائیل کی برتری اور اپنے مطلوبہ نظم کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اس توازن کو چیلنج کرتا ہے۔ نئی عالمی صف بندی میں ایران کا ابھرتا کردار بھی واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہے۔


