غزہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے اہم تاریخی ریکارڈ ضبط کرنے کی غاصب صیہونی دشمن کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے انروا نے خفیہ آپریشن کے ذریعے لاکھوں دستاویزات کو غزہ اور مقبوضہ بیت المقدس سے اردن کے دارالحکومت عمان منتقل کر دیا ہے تاکہ انہیں صیہونی قبضے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ آپریشن تقریباً دس ماہ تک جاری رہا۔ اس حساس مشن میں انروا کے درجنوں ملازمین نے حصہ لیا۔ یہ دستاویزات 1948ء کے سانحہ نکبہ سے لے کر اب تک فلسطینی پناہ گزینوں کی ہجرت اور حقِ واپسی کی دستاویزی گواہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں جغرافیائی اور آبادیاتی تبدیلیوں کا صیہونی منصوبہ بے نقاب
ان دستاویزات کو فلسطینیوں کے حق واپسی کا سب سے بڑا قانونی اور تاریخی ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ انروا کے خلاف صیہونی دشمن کی مسلسل جارحیت اور عمارتوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے باوجود یہ اہم ریکارڈ محفوظ کر لیے گئے۔


