فلسطینی تجزیہ کاروں نے غاصب صیہونی دشمن کے ایک نئے منصوبے سے خبردار کیا ہے جس کا مقصد غزہ کی پٹی کو جغرافیائی اور آبادیاتی طور پر تبدیل کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت غزہ کو عملی طور پر دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ مشرقی علاقوں میں ایک سخت سکیورٹی والا انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے گا جبکہ مغربی علاقوں کو دانستہ طور پر بھوک، تباہی اور محاصرے میں رکھا جائے گا تاکہ لوگ مجبور ہو کر مشرقی حصوں کی طرف ہجرت کر جائیں۔
تجزیہ کار وسام عفيفہ نے کہا کہ یہ منصوبہ غزہ میں نام نہاد ٹیکنوکریٹ کمیٹی قائم کرنے کی کوشش ہے جو قابض دشمن کی مرضی کے مطابق کام کرے گی۔ اس کمیٹی کو مشرقی غزہ میں تعینات کیا جائے گا جہاں تعمیر نو کی مشروط اجازت دی جائے گی۔
فایز ابو شمالہ نے اسے آبادیاتی انجینئرنگ کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد مغربی غزہ کے باشندوں کو مشرقی علاقوں کی طرف دھکیلنا ہے۔ محمد شاہین نے خبردار کیا کہ یہ منصوبہ غزہ کی قومی وحدت اور علاقائی سالمیت پر براہ راست حملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں انسانی امداد کی شدید کمی، سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر قابض اسرائیل تنقید کا نشانہ
ان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سازش فلسطینی مزاحمت کے ہتھیاروں کے خاتمے کو تعمیر نو کا شرط بنانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے فلسطینی قومی محاذ کی ازسرنو تشکیل پر زور دیا تاکہ اس استعماری منصوبے کو ناکام بنایا جا سکے۔


