مواد پر جائیں

متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی فوج اور CENTCOM کے ساتھ فوجی تعاون میں تیزی کر دی

متحدہ عرب امارات نے غاصب صیہونی فوج اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ساتھ سلامتی اور فوجی تعاون میں نمایاں تیزی کر دی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ابو ظہبی ایران کے خلاف ممکنہ نئی جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ متحدہ عرب امارات ایک طرف امریکہ-ایران ممکنہ معاہدے سے خائف ہے کہ اس میں اماراتی مفادات نظر انداز نہ ہو جائیں، دوسری طرف ایران کے ممکنہ انتقامی حملے سے بھی ڈرا ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات اور صیہونی رژیم مشترکہ فنڈ کے ذریعے جدید ہتھیاروں، اینٹی ڈرون سسٹم اور فضائی دفاعی ٹیکنالوجی کی مشترکہ خریداری اور ترقی کر رہے ہیں۔ یہ تعاون 2020 کے ابراہیم معاہدوں کے بعد مزید گہرا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکمت عملی میں پیچھے چھوڑ دیا، واشنگٹن کی دباؤ کی پالیسی ناکام

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف ایران پر حملے کی دھمکی دی اور دوسری طرف خلیجی ممالک کی درخواست پر اسے موخر کر دیا۔ صیہونی رژیم اس صورتحال سے پریشان ہے اور ممکنہ امریکی حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

Last Updated on 2 ہفتے ago by The Voice of Ummah Editorial Team

About The Author