ایران نے امریکی-صہیونی جارحیت کے سامنے اپنی مضبوط حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تین ماہ کی شدید جارحیت، پابندیوں اور ناکہ بندی کے باوجود ایران نے اپنا سیاسی اور فوجی توازن برقرار رکھا ہے اور اپنے بنیادی مطالبات پر ڈٹا ہوا ہے۔
باربرا سلاوین، سٹمسن سینٹر کی سینئر فیلو نے کہا کہ "ایران نے اس جنگ کے لیے واضح طور پر تیاری کی تھی اور اب تک ٹرمپ انتظامیہ کو حکمت عملی میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور خلیج تعاون کونسل کے اندر تقسیم پیدا کر دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو محفوظ جگہوں پر منتقل کر لیا ہے اور میزائل و ڈرون صلاحیتوں کو محفوظ رکھا ہے تاکہ طویل جنگ جاری رکھ سکے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں بڑے پیمانے پر حملے کی منصوبہ بندی موخر کر دی ہے کیونکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت خلیجی ممالک نے مذاکرات کی تاکید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گوگل پر سابق انجینئر کا مقدمہ: اسرائیل کے لیے AI فراہم کرنے کی مخالفت پر ملازمت سے فارغ
ایرانی فوج کے کمانڈروں نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی دباؤ میں اپنے بنیادی مطالبات (امریکی فوج کا خطے سے انخلا، جنگ کے نقصانات کا معاوضہ اور مزاحمتی تحریکوں پر حملے بند کرنا) سے دستبردار نہیں ہو گا۔


