اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران جنگ پالیسی پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے سینئر حکام کی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔
اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس نے سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی اور کہا کہ ایران کی حالیہ تجویز میں لچک موجود ہے، جس کی بنیاد پر ابتدائی معاہدے کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان پر صیہونی دہشت گردوں کی وحشیانہ بمباری، 24 گھنٹوں میں 31 شہید، 61 زخمی
اس کے برعکس وزیر خارجہ مارکوروبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران سے کسی بھی قسم کی رعایت صرف سخت دباؤ کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اجلاس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے بھی نائب صدر کے مؤقف کی حمایت کی، جس کے بعد ٹرمپ ایران کو ایک اور موقع دینے پر رضا مند ہوئے۔


