اسرائیلی اپوزیشن کے سربراہ یائیر لاپیڈ نے ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع معاہدے کو وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل اپنے جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں : حماس کا فلسطینی قیدی کی شہادت پر شدید ردعمل، اسرائیل کو ذمہ دار قرار دیا
لاپیڈ کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد نہ ایران کا نظام تبدیل ہوگا، نہ اس کا میزائل پروگرام ختم ہوگا اور نہ ہی جوہری سرگرمیاں روکی جا سکیں گی۔ انہوں نے نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل قومی سلامتی کے فیصلوں میں خودمختاری کھو بیٹھے گا۔


