کراچی ترقیاتی منصوبوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ کھربوں روپے کے اخراجات کے باوجود شہر کے عوام آج بھی پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
نامکمل منصوبہ بندی، سیاسی اختلافات اور مبینہ کرپشن کی وجہ سے شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مٹی کے تیل کی قیمت میں 8 روپے 70 پیسے فی لیٹر اضافہ
کے فور منصوبہ 24 سال گزرنے کے باوجود اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اس کی لاگت 25 ارب سے بڑھ کر 250 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ کراچی گریٹر سیوریج ٹریٹمنٹ منصوبہ بھی 2007 سے تاخیر کا شکار ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے 26 سال سے وعدوں کی نذر ہے۔
سیف سٹی منصوبے کے تحت صرف 1300 کیمرے نصب ہو سکے ہیں جبکہ شہر کو کم از کم 60 ہزار کیمروں کی ضرورت ہے۔ ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی منصوبے بھی سست روی اور لاگت میں اضافے کا شکار ہیں۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کو فوری مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔


