امریکہ اور صیہونی رژیم کی مشترکہ جارحیت کے سامنے ایران نے ہر مرحلے پر حکمت عملی میں برتری حاصل کر لی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اب ایک ایسے کوڑے میں پھنس چکی ہے جس سے نکلنا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے نہ صرف حملوں کو جذب کیا بلکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر شدید معاشی دباؤ ڈال دیا ہے۔
ایران نے اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو محفوظ رکھا اور جواب میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ابھی تک اسرائیل کی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور ہے۔
امریکہ کے خلیجی اتحادی بھی معاشی دباؤ اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ حزب اللہ کی مزاحمت نے صیہونی فوج کو جنوبی لبنان میں شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستانی آرمی چیف کی تہران آمد، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات نئے مرحلے میں داخل
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ٹرمپ ایران کے مطالبات (خطے سے امریکی فوج کا انخلا، معاوضہ اور پابندیوں کا خاتمہ) قبول نہ کریں تو انہیں مزید بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔


