پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر جمعرات کو تہران پہنچے، جہاں علاقائی صورتحال اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان "پرسکون رہنے کے بدلے جمود” کے فارمولے پر بات چیت ہو رہی ہے، جس کا مقصد مزید کشیدگی روکنا ہے۔ یہ فارمولا امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے حملوں کے خاتمے کے بدلے ایران کی طرف سے امریکی فوجی اڈوں اور سمندری راستوں پر حملوں میں توسیع نہ کرنے کی شرط پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کا مسئلہ صرف سفارتی ذرائع اور تہران کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے حل ہوگا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں، لیکن پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خبردار کیا ہے کہ دشمن دوسرے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔


