غاصب اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں مبینہ سیز فائر کے باوجود ’یلو لائن‘ کے قریب فلسطینی شہریوں کو براہ راست نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کو دیے گئے بیانات میں اسرائیلی فوجیوں نے بتایا کہ یلو لائن عبور کرنے والے کسی بھی شخص پر فائرنگ کا حکم ہے اور متعدد واقعات میں فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کے بعد فوجی خوشیاں مناتے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کے ایم سی کی بڑی کارروائی، ہل پارک اراضی پر قبضے کی مبینہ کوشش کا پردہ فاش
ایک ریزرو فوجی نے بتایا کہ "سیز فائر کے بعد حکم یہ تھا کہ لائن عبور کرنے والے کو گولی مار دو”۔ فوجیوں نے یہ بھی کہا کہ "اسے سیز فائر کہنا ایک مذاق ہے”۔
اسرائیلی فوجیوں کے مطابق یلو لائن واضح نہیں ہوتی، بعض جگہوں پر پیلے بیرل لگے ہوتے ہیں جبکہ بعض مقامات پر کوئی نشان ہی نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
سیز فائر کے بعد سے اب تک اسرائیل نے 900 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔


