66 روزہ جنگ 2024 کے بعد حزب اللہ نے اپنی فوجی تنظیم نو، کمانڈ ڈھانچے اور جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ اب وہ صہیونی رجیم کے ساتھ فرسودگی کی جنگ لڑ رہی ہے جس میں ڈرونز اور خصوصی یونٹس مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
حزب اللہ نے اب بڑی تعداد میں فوجیوں کو میدان میں بھیجنے کی بجائے محدود مگر انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس یونٹس پر انحصار کیا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد دشمن کو مسلسل نقصان پہنچانا اور اپنی قوت کو محفوظ رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ نے خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کی کمزوریاں بے نقاب کر دیں، امریکا حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور
حزب اللہ نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مزید مضبوط اور لچکدار بنایا ہے۔ اب فیلڈ کمانڈرز کو زیادہ آزادی دی گئی ہے جبکہ مرکزی قیادت کی نگرانی بھی برقرار ہے۔ اس تبدیلی نے شدید حملوں کے باوجود فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے میں مدد دی ہے۔
لبنان کی داخلی سیاست اور معاشی دباؤ اس وقت حزب اللہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر لبنانی حکومت مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے تو میدان جنگ پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔


