ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں کی حکمت عملی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے ثابت کر دیا کہ بڑے اور مستقل فوجی اڈے اب آسانی سے نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔ اس جنگ نے ان اڈوں کی کمزوری بے نقاب کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی: ہاکس بے اور کورنگی کریک میں پکنک کے دوران 8 افراد ڈوب گئے
امریکہ اب خلیج میں بڑے اڈوں کی بجائے چھوٹے، دور دراز اور کم ہدف بننے والے اڈوں کی طرف منتقل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساحل پر قائم LSA Jenkins جیسے اڈوں کو اسٹریٹجک گہرائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں امریکی فوجی موجودگی "ہلکا پھلکا” اور "رسائی پر مبنی” ہوگی، جیسا کہ عمان کے ساتھ ہے۔ بڑے اڈوں کی حفاظت کے لیے بہت زیادہ وسائل درکار ہوں گے جو امریکہ کے پاس محدود ہیں۔


