ایران جنگ نے خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کی کمزوریاں بے نقاب کر دیں، امریکا حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور

خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں کی کمزوری اور ایران جنگ کے اثرات

ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں کی حکمت عملی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے ثابت کر دیا کہ بڑے اور مستقل فوجی اڈے اب آسانی سے نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔ اس جنگ نے ان اڈوں کی کمزوری بے نقاب کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی: ہاکس بے اور کورنگی کریک میں پکنک کے دوران 8 افراد ڈوب گئے

امریکہ اب خلیج میں بڑے اڈوں کی بجائے چھوٹے، دور دراز اور کم ہدف بننے والے اڈوں کی طرف منتقل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساحل پر قائم LSA Jenkins جیسے اڈوں کو اسٹریٹجک گہرائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں امریکی فوجی موجودگی "ہلکا پھلکا” اور "رسائی پر مبنی” ہوگی، جیسا کہ عمان کے ساتھ ہے۔ بڑے اڈوں کی حفاظت کے لیے بہت زیادہ وسائل درکار ہوں گے جو امریکہ کے پاس محدود ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ریلیٹڈ پوسٹس

TheVoiceOfUmmah.com ایک آزاد عالمی میڈیا پلیٹ فارم ہے جو مسلم دنیا پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
ہم غزہ، ایران، لبنان، پاکستان اور دیگر خطوں سے متعلق خبریں، تجزیے اور تفصیلی مضامین واضح، ذمہ دارانہ اور متوازن انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد آگاہی دینا، شعور بیدار کرنا اور دنیا بھر کی مسلم امت سے متعلق مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دینا ہے، اور ہم سچائی اور اعتماد کو اپنی ترجیح بناتے ہیں۔

Copyright © 2026 by The Voice Of Ummah. All rights reserved