ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جرمنی کی غزہ میں اسرائیلی نسل کشی اور ایران پر امریکہ اسرائیل کی مشترکہ جارحیت میں ملی بھگت کی پالیسی کی وجہ سے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست حاصل نہیں ہو سکی۔
بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جرمنی کی غزہ اور ایران کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ، منافقانہ اور ملی بھگت والی پالیسی کی وجہ سے عالمی برادری نے اسے واضح ردعمل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ججوں کی رہائش گاہوں کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز
انہوں نے بتایا کہ جرمنی اسرائیل کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے، فلسطین میں جاری نسل کشی کی حمایت کرتا رہا اور ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی کھلی حمایت کی۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرٹز نے بھی کہا تھا کہ اسرائیل مغرب کی طرف سے ایران میں "گندا کام” کر رہا ہے۔
بقائی کا کہنا تھا کہ جرمنی کی یہ شکست کئی دہائیوں بعد پہلی بار ہوئی ہے، جو عالمی سطح پر ممالک کے کردار کا اندازہ کرنے میں ایک نئی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اب حکومتوں کا جائزہ ان کے بیانات کی بجائے ان کے عملی اقدامات پر لیا جا رہا ہے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ نے بھی تسلیم کیا کہ یوکرین اور اسرائیل کے حوالے سے برلن کی پوزیشن نے ووٹنگ کے نتائج پر اثر ڈالا۔


