غزہ میں کھانا پکانے والی گیس کے شدید بحران نے لوگوں کو خطرناک متبادل اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
شمالی غزہ سے ہجرت کرنے والی ایمان عسلیہ جیسی خواتین اب پلاسٹک اور گتے کے کچرے جلانے پر مجبور ہیں جو ان کے بچوں کے لیے کھانا تیار کرنے کا واحد ذریعہ بن گیا ہے۔
اس عمل سے نکلنے والی زہریلی گیسوں نے انہیں سانس کی بیماریوں اور صحت کے دیگر مسائل میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایمان عسلیہ کہتی ہیں کہ گیس کا سلنڈر حاصل کرنا اب ادھورا خواب بن چکا ہے۔
قابض اسرائیل نے گزرگاہوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے گیس کی رسد مزید کم ہو گئی ہے۔ سیز فائر معاہدے کے بعد بھی دشمن نے روزانہ صرف 5 سے 9 گیس ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی جبکہ معاہدے میں 50 ٹرکوں کی شرط تھی۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں 24 گھنٹوں کے دوران 3 فلسطینی شہید، 3 زخمی: وزارت صحت
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ نے کہا کہ یہ گیس بحران قابض اسرائیل کی ظالمانہ پابندیوں اور امداد کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مجرمانہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔


