غزہ میں جبری انخلا اور تباہی، انسانی بحران مزید سنگین

غزہ میں صیہونی فوج کی جبری انخلا اور رہائشی علاقوں کی وحشیانہ تباہی

غزہ کی پٹی میں جبری انخلا کوئی محدود فوجی اقدام نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی مکمل تباہی اور مسلسل نقل مکانی کی ایک منظم پالیسی بن چکا ہے۔

قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے رہائشی علاقوں پر بمباری سے قبل جاری کیے جانے والے انخلا کے احکامات فلسطینیوں کو بار بار بے گھر کر رہے ہیں اور ان کی نفسیاتی و سماجی حالت کو تباہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ کا محاصرہ مزید سخت، اسرائیلی رکاوٹوں میں اضافہ

انسانی حقوق کے مرکز اطلاعات فلسطین نے بتایا کہ یہ انخلا کے احکامات بڑے پیمانے پر تباہی اور اجتماعی ہراساں کرنے کا حربہ ہیں۔ تجزیہ کار عماد زقوت نے کہا کہ یہ پالیسی غزہ کو ناقابل رہائش بنانے اور فلسطینیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی صیہونی سازش کا حصہ ہے۔

غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہر انخلا کے بعد زندگی دوبارہ شروع کرنا ایک اذیت بن چکا ہے اور استحکام کا احساس ختم ہو چکا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ریلیٹڈ پوسٹس

TheVoiceOfUmmah.com ایک آزاد عالمی میڈیا پلیٹ فارم ہے جو مسلم دنیا پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
ہم غزہ، ایران، لبنان، پاکستان اور دیگر خطوں سے متعلق خبریں، تجزیے اور تفصیلی مضامین واضح، ذمہ دارانہ اور متوازن انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد آگاہی دینا، شعور بیدار کرنا اور دنیا بھر کی مسلم امت سے متعلق مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دینا ہے، اور ہم سچائی اور اعتماد کو اپنی ترجیح بناتے ہیں۔

Copyright © 2026 by The Voice Of Ummah. All rights reserved