یو اے ای میں منشیات پر سخت سزائیں، قانون کیا کہتا ہے؟

یو اے ای میں منشیات پر سخت سزائیں

یو اے ای میں منشیات پر سزائیں کیا ہیں؟

دبئی (8 مئی 2026): یو اے ای میں صرف منشیات رکھنا اور استعمال ہی جرم نہیں بلکہ دوسروں کو اس جانب مائل کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت نہ صرف منشیات کا استعمال اور قبضہ بلکہ کسی دوسرے شخص کو اس جرم کی طرف مائل کرنا، سہولت فراہم کرنا، دھوکا دینا یا زبردستی شامل کرنا بھی قابل سزا جرم شمار ہوتا ہے۔

فیڈرل ڈکری بائی لاء نمبر 30 آف 2021 کے تحت، خصوصاً آرٹیکل 48، 50 اور 51 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص براہ راست منشیات استعمال یا قبضے میں ملوث نہ بھی ہو، لیکن کسی دوسرے کو اس میں شامل ہونے پر اُکسائے، مدد دے یا اس عمل کو ممکن بنائے تو وہ بھی قانونی ذمہ داری کے دائرے میں آتا ہے۔

اگر کوئی شخص کسی کو منشیات کے جرم کی طرف مائل کرے یا اس میں سہولت فراہم کرے تو اس کی سزا کم از کم پانچ سال قید اور 50,000 درہم جرمانہ ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص دھوکہ دہی کے ذریعے، مثلاً کسی کے علم کے بغیر کھانے یا مشروب میں نشہ آور چیز شامل کرے تو اسے زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور کم از کم 20,000 درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اگر اس عمل کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے تو سزا عمر قید یا سزائے موت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ مزید برآں، کسی دوسرے شخص کو زبردستی منشیات استعمال کروانے کی صورت میں کم از کم دس سال قید جیسی سخت سزا مقرر ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، امریکیوں نے ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا

مانسہرہ کے لیے بڑی خبر، 25 ارب روپے کے 12 ترقیاتی منصوبے شروع

اس کے علاوہ یو اے ای کے فیڈرل قانون کے آرٹیکل 57 اور 58 کے مطابق اگر کوئی شخص منشیات کو ملک میں لانے، باہر لے جانے، تیار کرنے یا اپنے پاس رکھنے کا عمل اس نیت سے کرے کہ انہیں آگے فروخت، تقسیم یا فروغ دیا جائے، تو اسے انتہائی سخت سزا دی جاتی ہے، جس میں سزائے موت بھی شامل ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی فرد منظم جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ ہو یا ان کی سرگرمیوں میں معاونت کرے تو اسے سزائے موت یا عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

قانونی طور پر تجویز کردہ ادویات کا استعمال بھی انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ ایسی ادویات کسی بھی صورت میں ساتھیوں یا دیگر افراد کے ساتھ شیئر نہیں کی جانی چاہییں۔

سفر سے پہلے اور دوران قیام ان قانونی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ غیر ارادی غلطیوں سے بچا جا سکے اور مکمل قانونی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ریلیٹڈ پوسٹس

TheVoiceOfUmmah.com ایک آزاد عالمی میڈیا پلیٹ فارم ہے جو مسلم دنیا پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
ہم غزہ، ایران، لبنان، پاکستان اور دیگر خطوں سے متعلق خبریں، تجزیے اور تفصیلی مضامین واضح، ذمہ دارانہ اور متوازن انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد آگاہی دینا، شعور بیدار کرنا اور دنیا بھر کی مسلم امت سے متعلق مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دینا ہے، اور ہم سچائی اور اعتماد کو اپنی ترجیح بناتے ہیں۔

Copyright © 2026 by The Voice Of Ummah. All rights reserved