امریکہ میں ایران کے خلاف جنگ اب ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا سیاسی اور معاشی بحران بنتی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں شکست ہمیشہ میدان جنگ میں نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی کوئی طاقتور ملک اندرونی طور پر کمزور ہو کر ہار جاتا ہے جب اس کے عوام حکمرانوں کے جنگی خوابوں کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہ ہوں۔ ویتنام، عراق اور افغانستان کی طرح اب ایران کے خلاف چالیس روزہ جنگ بھی ٹرمپ کے لیے ایک ایسا جال بنتی جا رہی ہے جس سے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔
امریکی عوام اب مہنگی اور لامتناہی جنگوں سے تھک چکے ہیں۔ پٹرول، زندگی کے اخراجات اور انشورنس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ حکومت ملکی مسائل حل کرنے کے بجائے وسائل کو ایک غیر ضروری بیرونی جنگ میں ضائع کر رہی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی مایوسی پھیل رہی ہے۔ وسط مدتی انتخابات صرف چھ ماہ دور ہیں اور پارٹی ابھی تک عوام کے مسائل حل کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کر سکی۔
ٹرمپ نے “امریکہ فرسٹ” کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے تھے، مگر ایران جنگ نے ان کی حکومت کو اندرونی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ معاشی دباؤ، عوامی عدم اطمینان اور سیاسی تقسیم روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں ایران جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نہ تو مکمل جنگ جاری رکھنے کے قابل ہے اور نہ ہی آسانی سے پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ یہ تعطل امریکی طاقت کی عالمی تصویر کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
ایران جنگ اب ٹرمپ کے لیے نہ صرف بیرونی چیلنج بلکہ اندرونی سیاسی اور معاشی بحران بھی بن چکی ہے۔


