چائنا ڈیلی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مقرر کردہ انتظامی پروٹوکولز کی تعمیل کرتے ہوئے درجنوں جہاز، جن میں چینی ملکیت والے جہاز بھی شامل ہیں، آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔
اگرچہ خطے میں کشیدگی جاری ہے، تاہم ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے تصدیق کی ہے کہ چینی جانب کی درخواست اور پروٹوکولز پر اتفاق کے بعد متعدد جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، تنازعے کے آغاز (28 فروری) سے پہلے روزانہ تقریباً 140 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، مگر اب ٹریفک نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔ تاہم، اب تک 30 سے زائد جہازوں کو ایران کے پروٹوکولز کے تحت گزرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔
واضح کیا کہ دوست ممالک کے جہاز ایرانی فوجی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کر کے محفوظ راستہ اختیار کر
سکتے ہیں۔
دریں اثنا، متحدہ عرب امارات کے فجیرہ بندرگاہ سے ایک جہاز ضبط کر کے ایران منتقل کر دیا گیا، جبکہ ایک بھارتی جہاز عمان کے ساحل کے قریب ڈوب گیا۔ اس جہاز کے تمام 14 عملے کو محفوظ بچا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا مشن: امریکہ کی حمایت کرنے والے ممالک کشیدگی میں اضافے کی ذمہ دار ہوں گے
یہ پیش رفت آبنائے ہرمز میں ایران کے اسٹریٹجک کنٹرول اور علاقائی سلامتی کے نئے اصولوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔


