خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بیان چند روز قبل امریکی افواج کی جانب سے ایک جہاز قبضے میں لینے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے دیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے جہاز پر قبضہ کیا، ہم نے سامان پر قبضہ کیا، ہم نے تیل پر قبضہ کیا۔ یہ ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں کی طرح ہیں۔ ہم کچھ حد تک قزاقوں جیسے ہیں لیکن ہم کھیل نہیں کھیل رہے۔‘
ایران کی کچھ کشتیاں، ایرانی بندرگاہوں سے روانگی کے بعد، امریکی کارروائیوں میں ضبط کی جا چکی ہیں، جبکہ پابندیوں کا شکار کنٹینر جہاز اور ایرانی آئل ٹینکرز بھی ایشیائی پانیوں میں پکڑے گئے ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تقریباً تمام جہازوں کو روک دیا تھا جس کے بعد ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر الگ سے ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک، جہاں امریکی اڈے موجود ہیں، پر حملے کیے۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان سے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔


