غزہ – فلاحی تنظیم "ورلڈ سنٹرل کچن” نے غزہ پٹی میں اپنی امدادی سرگرمیاں جزوی طور پر محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
مختلف ذرائع کے مطابق تنظیم نے تقریباً 700 ملازمین اور رضاکاروں میں سے 400 کو نوکریوں سے فارغ کرنے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ اس فیصلے کے تحت متعدد کمیونٹی کچنز کو بند کر دیا جائے گا، خاص طور پر وسطی اور جنوبی غزہ (دیر البلح اور خان یونس) میں۔
اس اقدام سے سب سے زیادہ متاثر خان یونس کے مغربی علاقے "المواصی” میں پناہ گزین خاندان ہوں گے جہاں لاکھوں بے گھر فلسطینی خیموں میں رہ رہے ہیں اور تنظیم کے فراہم کردہ گرم کھانے ان کا واحد ذریعہ معاش تھے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی محاصرے، امداد پر پابندیوں اور شدید غذائی قلت کی وجہ سے غزہ میں انسانی بحران پہلے ہی انتہائی سنگین ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ غذائی عدم تحفظ اور سوء تغذیہ کی وبا پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صہیونی جیلوں میں کمسن فلسطینی اسیران کی تنہائی قید میں ہولناک اضافہ
غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ورلڈ سنٹرل کچن کی خدمات ان کے لیے زندہ رہنے کا آخری سہارا تھیں۔ اس بندش سے بھوک اور غذائی قلت کا بحران مزید شدید ہو جائے گا۔


